Ricky Ponting, November 2.''SO FAR'' proved to be the crucial words in Australian captain Ricky Ponting's appraisal of India's ''Little Master'' after game four of the one-day series, because in game five the 36-year-old responded with the second-highest score in his 435 one-day internationals.The only disappointment for India surrounding the glorious innings is that his 175 was still not enough to drag the home side to victory.And while the game didn't quite match the spectacle of the famous 872-run contest between South Africa and Australia at the Wanderers in 2006, it came close.When Australia posted 4-350 against India on Thursday night, the home side's chances of victory looked remote. But when India needed only 19 from the last three overs, having scored more than seven an over for its first 47, Australia's unloseable match seemed destined to be lost.Then came four wickets in 15 deliveries, including the scalp of Tendulkar, that allowed Australia to leave the Rajiv Gandhi Stadium with a three-run victory - and a 3-2 lead in the seven-match series.''I don't think we did a lot wrong in the game,'' Ponting said. ''Sachin's innings would've been something that would've stolen the game from us. We did enough right in the game to win, and we got across the line at the very end. I can tell you now that the guys, even though we probably fought our way out of jail a little in the last half of the game, we were as excited out there and back in the rooms as we have been for any win that we've had.''With nine Australia players unavailable due to injury - the majority being first-choice inclusions when fit - Ponting was even more thrilled to have won with what he agreed was close to an Australia A side.''That's what I'm most proud of. With everything that's happened over the last couple of weeks, for us to keep finding ways to win games says a lot about the team, a lot about the individual players and the way we go about it,'' he said.''I actually asked the guys for a little bit extra today, asked them to be really brave and to play the best form of cricket they possibly could and just back themselves at every opportunity. I thought the first half of the game with our batting we did that to a tee, and I think even in the last half of the game with the bowling we did that really well, so a great day for us.''
Tendulkar steals the show
بلےبازوں کو آؤٹ کرنا آسان تھا: ڈی سلوا
67 سالہ سوما چندرا ڈی سلوا اس وقت سری لنکن کرکٹ کی عبوری کمیٹی کے سربراہ ہیں لیکن دنیا انہیں ایک لیگ اسپنر کے طور پر زیادہ جانتی ہے جو اس ٹیم میں شامل تھے جو سری لنکا کی طرف سے پہلا ٹیسٹ میچ کھیلی۔
سری لنکن کرکٹ بورڈ کے دفتر میں جب میں نے سوماچندرا سے بات کی تو میں نے ان سے چیئرمین سری لنکن کرکٹ کے بجائے ایک لیگ سپنر کے طور پر ماضی میں جھانکنے کی درخواست کی تو کچھ ہی دیر میں وہ اس دور کی یادوں میں کھوگئے۔
سوما چندرا ڈی سلوا کہتے ہیں جب 1982 میں ٹیسٹ رکنیت ملنے کے بعد سری لنکا کی ٹیم پاکستان آئی تھی تو انہیں اندازہ تھا کہ ظہیر عباس ماجد خان جاوید میانداد اور وسیم راجہ جیسے ورلڈ کلاس بلے بازوں کو بولنگ کرنا بہت بڑا چیلنج ہوگا لیکن سری لنکا کی ٹیم فیصل آْباد ٹیسٹ جیتنے کے بہت قریب آگئی تھی۔اس میچ میں انہوں نے نو وکٹیں حاصل کی تھیں۔ وہ فیصل آْباد ٹیسٹ نہ جیتنے کو بدقسمتی سے تعبیر کرتے ہیں۔
سوماچندرا ڈی سلوا کو ابھی تک اس بات کا بھی افسوس ہے کہ سری لنکا کو ٹیسٹ رکنیت تاخیر سے ملی اور وہ اس کے بعد زیادہ عرصہ نہ کھیل سکے لیکن اس سے پہلے وہ غیرسرکاری ٹیسٹ میچوں میں اپنے ملک کی نمائندگی کر چکے تھے اور ان کی وکٹوں کی تعداد دو سو سے زائد تھی اگر سری لنکا کو ٹیسٹ کھیلنے کا استحقاق پہلے مل جاتا تو آج ان کا نام بھی زیادہ وکٹیں حاصل کرنے والے بولرز میں نظر آتا۔
سوما چندرا نے 12 ٹیسٹ میچوں میں سری لنکا کی نمائندگی کی اور 37 وکٹیں حاصل کیں۔
کس بلے باز کو آؤٹ کرنا مشکل لگا؟ اس سوال پر سوما چندرا ڈی سلوا کہتے ہیں کہ پاکستان کے دورے میں جاوید میانداد آسانی سے ہاتھ آنے والے بیٹسمین نہیں تھے۔ اس دور کے دیگر بلے بازوں میں ظہیرعباس، وسیم راجہ، سنیل گاوسکر، کلائیولائیڈ، ویوین رچرڈز اور جیف بائیکاٹ کے سامنے بولنگ کرنا آسان نہ تھا لیکن انہوں نے ان کی وکٹیں بھی حاصل کیں۔ وہ اٹیکنگ لیگ سپنر تھے اور گگلی کا استعمال بھی اچھی طرح کرتے تھے۔
آپ کے بعد سری لنکن ٹیم میں کوئی لیگ سپنر نہیں آیا اور پھر زمانے نے مرلی دھرن کا جادو دیکھا؟ اس سوال پر سوماچندرا ڈی سلوا کہتے ہیں کہ ان کے بعد اشوکا ڈی سلوا اور اپل چندانا کی شکل میں اچھے لیگ سپنرز آئے لیکن مرلی نے اپنی جگہ خوب بنائی وہ ایک خاص قسم کے بولر ہیں اور انہیں نہیں لگتا کہ مرلی کے جانے کے بعد سری لنکا کو بہت جلدی ان ہی جیسا زبردست بولر مل سکے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک اورمرلی تیار کرنا آسان نہیں۔
سوما چندرا ڈی سلوا سے جب میں نے پوچھا کہ اپنے دور میں بلے بازوں کو آؤٹ کرنا زیادہ مشکل تھا یا سری لنکن کرکٹ کے معاملات چلانا؟ انہوں نے مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیتے ہوئے کہا کہ انتظامی معاملات آسان نہیں۔ جبکہ بلے باز کی وکٹ حاصل کرنا آسان تھا۔
ڈی سلوا کہتے ہیں کہ سری لنکا میں سکول کرکٹ کا سیٹ اپ منظم ہے کرکٹ اکیڈمی بھی کام کر رہی ہے لہذا باصلاحیت کرکٹرز سامنے آتے رہتے ہیں۔
سوماچندرا ڈی سلوا سے جب میں نے یہ پوچھا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین اعجاز بٹ یہ شکوہ کرتے ہیں جب ورلڈ کپ کے میچز پاکستان سے واپس لیے جارہے تھے تو ’ایشیائی میزبان بھائیوں‘ بشمول سری لنکن کرکٹ بورڈ نے پاکستان کی حمایت نہیں کی تو ان کا کہنا تھا کہ یہ درست نہیں ہے۔
انہوں نے ذاتی طور پر پاکستان کی حمایت کی ان سے جو کچھ ہوسکتا تھا وہ انہوں نے کیا۔پاکستان سے سری لنکا کے بہت اچھے تعلقات ہیں اس لیے وہ ہمیشہ پاکستان کی حمایت کرتے ہی جبکہ سری لنکن کرکٹ بورڈ سے بھی سو فیصد حمایت پاکستان کو ملی لیکن یہ فیصلہ آئی سی سی کا تھا کہ سکیورٹی کی وجہ سے پاکستان میں میچز نہیں ہوسکتے ۔
سوماچندرا ڈی سلوا کا کہنا ہے کہ سری لنکا کے 2011 ورلڈ کپ کے لیے تیار ہے انفرا اسٹرکچر کو بہترکیا جارہا ہے جبکہ ٹیم بھی ورلڈ کپ کی تیاری کے سلسلے میں اس سال بارہ ون ڈے انٹرنیشنل میچز کھیل رہی ہے ۔
سری لنکا ورلڈ کپ کے بارہ میچوں کی میزبانی کرے گا۔
تندولکر اور ڈراوڈ کی واپسی
بھارت نے سری لنکا میں ہونے والی سہ رخی سیریز اور پھر چیمپئنز ٹرافی کے لیے اپنی ٹیم کا اعلان کردیا ہے اور اس ٹیم میں بلے باز راہول ڈراوڈ کا نام بھی شامل ہے۔ راہول ڈراوڈ دو برس بعد بھارت کی ایک روزہ میچوں کے لیے ٹیم میں شامل کیے گئے ہیں۔
مشہور بلے باز سچن تندولکر بھی کافی دنوں سے ایک روزہ میچ نہیں کھیل رہے تھے اور ان کی بھی چھ ماہ بعد واپسی ہوگی۔
راہول ڈراوڈ نے اکتوبر دو ہزار سات میں اپنا آخری ایک روزہ میچ ناگ پور میں آسٹریلیا کے ساتھ کھیلا تھا جس میں انہوں نے صرف سات رن بنائے تھے۔ اس کے بعد سے انہیں کسی بھی ایک روزہ میچ میں جگہ نہیں ملی تھی۔
آئی پی ایل کے میچوں میں ڈراوڈ نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا اور اطلاعات کے مطابق ان کی پرفارمنس کو دیکھ کر ہی انہیں ٹیم میں جگہ دی گئی ہے۔
چنئی میں ٹیم کے سلیکٹر شری کانت کی صدارت میں جو میٹنگ ہوئی اس میں کپتان مہندر سنگھ دھونی بھی شامل ہوئے۔ فٹ نہ ہونے کے سبب وریندر سہواگ کو ٹیم میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔ ان کی غیر موجودگی میں نائب کپتانی کی ذمہ داریاں یواراج سنگھ سنبھالیں گے۔
پندرہ رکنی ٹیم میں دنیش کارتک، سریش رائنا اور ابھیشیک کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ ظہیر خان کی غیر موجودگی میں آشیش نہرا اور ان کے ساتھ آر پی سنگھ اور ایشانت شرما تیز گیند بازی کی کمان سنبھالیں گے۔
ان دونوں سیریز کے لیے بھارتی ٹیم میں مہندر سنگھ دھونی کپتان، یوراج سنگھ، سچن تندولکر، راہول ڈراوڈ، گوتم گمبھیر، سریش رائنا، یوسف پٹھان، ہربھجن سنگھ، آشیش نہرا، آر پی سنگھ، ایشانت شرما، دنیش کارتک، پروین کمار، امت مشرا اور ابھیشیک نائر کو شامل کیا گیا ہے۔
ہندوستانی کرکٹرز کو سیکس کا مشورہ
ہندوستان کی کرکٹ ٹیم کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے کھلاڑیوں کو جنسی تعلقات بنانے کی تجویز دی گئی ہے۔ فی الوقت بھارتی کرکٹ ٹیم جنوبی افریقہ میں چیمپئنز ٹرافی میں حصہ لینے کے لیے گئی ہوئی ہے۔
اخبار ہندوستان ٹائمز ميں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ٹیم کے کوچ گیری کرسٹن کی جانب سےکھلاڑیوں کو ایک خفیہ دستاویز دی گئی ہے جس کی سرخی ہے ’کیا سیکس کارکردگی بہتر بناتا ہے؟‘
اخبار کے مطابق اس کے جواب میں لکھا گیا ’ہاں‘ سکیس کے سبب کارکردگی بہتر ہوتی ہے اور اس لیے بنا جھجک اس میں مبتلا ہوں۔‘
دستاویز کے مطابق ’فزیولوجی کے لحاظ سے سکیس کرنے سے ٹیسٹوسٹرون میں اضافہ ہوتا ہے جس کے سبب طاقت، جارحیت اور مقابلہ کرنے کی قوت بڑھتی ہے۔
اسی طرح دستاویز میں جنسی تعلقات قائم نہ کر سکنے کی صورت کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ کئی مہینے تک اس سے محروم رہنے پر ٹیسٹوسٹرون کا لیول مردوں اور عورتوں دونوں میں ہی کم ہو جاتا ہے جس کے سبب جارحیت بھی کم ہو جاتی ہے۔
اس دستاویز میں یہ بھی کہا بتایا گیا ہے کہ اگر جنسی تعلقات قائم کرنے کے لیے کوئی ساتھی نہ ہو تو ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ اکیلے ہی اپنے ساتھی کے ساتھ ہونے کو محسوس کرتے ہوئے اس عمل کو پورا کیا جائے۔
اخبار کے مطابق جنسی تعلقات کے علاوہ اس دستاویز میں خوراک، ملک کے سماجی تانے بانے اور خود پر یقین جیسے موضوعات کی بات کہی گئی ہے۔